دانش وری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دانش ور کا اسم کیفیت، ذہانت، عقل مندی۔ "دانش وری نہ عہدے کی برکت سے کسی پر پھٹ پڑتی ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ دانش ور بھی ہو"      ( ١٩٦٦ء، تہذیب و فن، ١٢٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکب 'دانش ور' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دانش ور کا اسم کیفیت، ذہانت، عقل مندی۔ "دانش وری نہ عہدے کی برکت سے کسی پر پھٹ پڑتی ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ وہ دانش ور بھی ہو"      ( ١٩٦٦ء، تہذیب و فن، ١٢٦ )

جنس: مؤنث